عابد شیر علی نے سینیٹ اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف پر اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ 201 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارف سے 400 یونٹ والے سلیب کے تحت بل کیسے وصول کیا جا سکتا ہے۔ ان کی گفتگو کا محور بجلی کے نرخوں سے صارفین پر پڑنے والا بوجھ تھا۔
کم استعمال، زیادہ سلیب پر اعتراض
عابد شیر علی نے استعمال شدہ یونٹس اور بل کے لیے لاگو کیے جانے والے سلیب کے فرق پر سوال کیا۔ انہوں نے 201 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کی مثال دیتے ہوئے اسے 400 یونٹ کے سلیب کا بل دینے پر اعتراض کیا۔
یونٹ بڑھانے اور مقدمات بنوانے کا الزام
ٹیرف کے معاملے کے ساتھ انہوں نے تقسیم کار کمپنیوں کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی۔ عابد شیر علی نے الزام لگایا کہ کمپنیاں بلوں میں یونٹ بڑھا دیتی ہیں اور پھر غریب صارفین کے خلاف مقدمات درج کروا دیے جاتے ہیں۔

