امریکا کی ایران کے ساتھ جنگ بندی اور جوہری معاہدے کی کوششوں کے دوران وینس کا عاصم منیر سے تقریباً روزانہ رابطہ
ایگزیوس کے مطابق، جے ڈی وینس ایران کے ساتھ نئی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، جن میں پاکستان اور قطر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان تکنیکی اجلاس کے انعقاد پر بات چیت جاری ہے۔

ایگزیوس کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تقریباً روزانہ بات کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن ایران کے ساتھ نئی جنگ بندی اور ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے کوشاں ہے۔
وینس گزشتہ دو ہفتوں سے پس پردہ سفارتی کوششوں کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں پاکستان اور قطر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
منیر سے بات چیت کے ساتھ ساتھ وینس نے قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے بھی باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا ہے۔ ان کی بات چیت میں آنے والے دنوں میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان عملی سطح کے تکنیکی اجلاس کے انعقاد پر غور کیا گیا ہے، تاہم یہ اجلاس ابھی تک نہیں ہوا۔
پاکستان اس سے قبل بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششوں میں شامل رہا ہے۔ وینس نے اپریل میں اسلام آباد میں ایران سے متعلق سربراہی اجلاس میں امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی تھی اور ذاتی طور پر ان مذاکرات میں حصہ لیا تھا جن کے نتیجے میں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت طے پائی تھی۔
بعد ازاں انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ایک اور دور میں امریکی وفد کی قیادت کی۔ ان مذاکرات کے اختتام پر ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے دورے کی دعوت دینے پر اتفاق کیا۔ بعد میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد یہ معاہدہ ختم ہو گیا۔
وینس کی قیادت کے باعث اس نئی کوشش کی نگرانی ٹرمپ انتظامیہ کی اعلیٰ سطح پر ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدارتی مشیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی مذاکرات میں شامل ہیں۔
دو ہفتے قبل وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھ کر براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، ایرانی حکام نے اس خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایسا قدم قرار دیا جو سفارتی رابطوں کی بحالی میں مدد دے سکتا ہے۔
ٹرمپ نے سفارتی کوششیں آگے بڑھانے کی اجازت دی ہے اور جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن مذاکرات میں مصروف ہے۔
یہ خبر شیئر کریں
اسے کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے یہ پڑھنی چاہیے۔





